Sunday, September 2, 2012
I felt I could keep writing forever...but then tears made it all blurred...
اگر تم اپنے بچوں کو میرے آنگن میں پا کر
اس طرح سے نہ بھڑک اتھنے
اگر تم میر ے گھر سے آیا مٹھائی کا وہ ڈبہ
گلی میں نہ گرا دیتے
اگر تم اپنی محفل میں
کبھی مجھ کو بلا لیتے
اگر تم ہر کسی کو یہ نہ کہتے
ہم تو اعلیٰ ہیں
ہمیں یہ غیر مذھب لوگ ہم جیسے نہیں لگتے
اگر تم شر پسندوں سے نہ ملتے
مولوی کی بات پر ایمان نہ لاتے
تو مجھ میں اور تم میں کچھ فرق نہ تھا
ہم اک گھر میں نہیں لیکن محلے میں تو رهتے تھے
ہماری ایک بولی تھی
ہمارے مائیں بہنوں کی طرح اک ساتھ کھیلی تھی
مجھے لگتا ہے
میں نی جاگتی آنکھوں سے وہ سب پھر سے دیکھا ہے
کتابوں میں پڑھا تھا جو
قریباً اک صدی پھلے اسی خطے کی بارے میں
مگر تم نےتو یہ دعویٰ کیا تھا کہ
تمہیں اک سلطنت تعمیر کرنی ہے
جہاں پر سب امن ہو گا
کوئی مذہب نسل اور رنگ کےپیچھے
کسی کی جان نہ لے گا
یہ کیسی پاک بستی ہے، یہ کیسے لوگ ہیں بولو
میں اپنی لاڈلی کو کیا بتاؤں
کیوں تمہارے گھر نہیں جانا
تمہیں انکل نہیں کہنا...
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment